امارات سے پاکستان کے لیے 22 فلائٹس روانہ ہوں گی

امارات سے پاکستان کے لیے 22 فلائٹس روانہ ہوں گی

SHARE

اگلے چند روز میں امارات سے پاکستان کے لیے 22 فلائٹس روانہ ہوں گی

22 مئی سے 31 مئی تک پی آئی اے کی جانب سے خصوصی فلائٹس کے ذریعے ہزاروں پاکستانیوں کو وطن پہنچایا جائے گا
دُبئی ( 18مئی 2020ء) پاکستان کی وزارت برائے اوور سیز پاکستانیز نے پردیس میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے خصوصی فلائٹس چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت کی جانب سے دس روزہ شیڈول جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق 22 مئی سے 31 مئی تک دُنیا کے مختلف ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے 47 فلائٹس چلائی جائیں گی۔ متحدہ عرب امارات سے بھی پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے 22مئی سے 31 مئی تک پاکستان کے مختلف شہروں کے لیے 22 خصوصی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔

پی آئی اے کی جانب سے 20 پروازیں ہزاروں پاکستانیوں کو واپس پاکستان پہنچائیں گی۔ جبکہ امارتی ایئر لائنز بھی اس مُدت کے دوران 2 فلائٹس پاکستان کے لیے روانہ ہوں گی۔ ان 22 پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر 5 ہزار پاکستانی واپس اپنے وطن پہنچ جانے میں کامیاب ہو جائیں گےتاہم اس شیڈول میں حالات کے مطابق تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔ 11مئی سے 21 مئی تک دنیا بھر سے 12 ہزار پاکستانیوں کو خصوصی فلائٹس کے ذریعے پاکستان لایا گیا ہے۔دُبئی کے قونصل خانے کی جانب سے گزشتہ جمعرات تک پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کے ذریعے 5,883پاکستانی امارات سے پاکستان پہنچا دیئے گئے ہیں۔ اس وقت امارات میں سب سے زیادہ پاکستانی شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستانی قونصل خانے کہ اگر کسی پاکستانی کو خصوصی پروازوں میں سفر کے لیے منتخب کر بھی لیا جاتا ہے، تو اسے پرواز میں سوار ہونے سے قبل ریپڈ کورونا ٹیسٹ کروانا ہو گا۔
اگر کسی مسافر کا ٹیسٹ مثبت آ گیا تو اسے پرواز میں سوار نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی قونصل جنرل نے بتایا ہے کہ دُبئی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے پاکستان جانے کے خواہش مندوں کے کورونا ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں دُبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر فیصل آباد کے لیے شیڈول پرواز کی روانگی سے قبل مسافروں کے کورونا ٹیسٹ لیے گئے، جن مسافروں کے ٹیسٹ پازیٹو آئے، انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔
اس موقع پر پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ جنہوں نے مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس وقت 63 ہزار پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لیے اپنی رجسٹریشن کروا رکھی ہے، تاہم انہیں انتظار کرنا ہو گا۔ ترجیحی فہرست کے مطابق ہی پاکستانیوں کو واپس بھیجا جائے گا۔گیارہ ہزارسے زائد پاکستانی ایسے ہیں جو ملازمتوں کی تلاش میں امارات آئے مگر کورونا وبا کے باعث یہیں پر محصور ہو کر رہ گئے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کی جانب سے بھی دُنیا بھی کی سول ایوی ایشنز سے کہا گیا ہے کہ لوگوں کوپروازوں سے اُترنے کے بعد قرنطینہ نہ کیا جائے بلکہ ان کے پروازوں میں سوار ہونے سے قبل ان کے کورونا ٹیسٹ لیے جائیں۔ کیونکہ ارائیول کے بعد مسافروں کو قرنطینہ کرنے سے انٹرنیشنل پروازوں کی مکمل بحالی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔